Skip to content Skip to footer

سات حرفوں پر قرآن کی تلاوت

اقابل فہم ہو گئی ہے۔ اِس سے جو الجھنیں قرآن مجید سے متعلق ہماری روایت میں پیدا ہوئی ہیں، اُن سے اہل علم واقف ہیں۔ ہم نے اپنی بساط بھر اُن کو یہاں سلجھانے کی کوشش کی ہے۔’وما توفيقي إلا باللّٰه‘۔

 

_____ــــــ ۱ ــــــ_____

 

عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،۱ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَى حَرْفٍ۲ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ، وَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ».

ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے عبید اللہ بن عبد اللہ نے بیان کیا، اور اُنھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل نے مجھے ایک حرف۱؎ پر قرآن پڑھایا، مگر میں نے اُن سے دوبارہ عرض کیا، اور میں مسلسل اُس میں اضافے کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ بھی بڑھاتے رہے، یہاں تک کہ سات حروف تک پہنچ گئے۔۲؎

_____________________

۱؎ اِس لفظ کے معنی ’طرف‘ اور ’جانب‘ کے بھی ہیں۔ اِسی سے یہ حروف تہجی کے لیے استعمال ہوا، جو زبان کی بنیاد ہیں۔ چنانچہ ’کلمہ‘ اور ’لغت‘ کے معنی بھی پیدا ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس باب کی روایتوں میں جس طریقے سے اِس کو استعمال فرمایا ہے، اُس سے واضح ہے کہ اِس سے مراد یہاں لغت یا بولی (Dialect) ہی ہے۔ اِس کو ہم کسی زبان کا مقامی لہجہ یا ’Accent‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔  چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اِس کی تفسیر اِسی لفظ ’لغت‘ سے کی اور فرمایا ہے: ’نزل القرآن علیٰ سبع لغات‘۔ ائمۂ لغت میں سے ابوعبید اور ابو العباس سے بھی اِس کے یہی معنی منقول ہیں۔ملاحظہ ہو: فتح الباری۹/ ۲۶ ۔  لسان العرب ۳/ ۱۲۸۔اقرب الموارد ۱/ ۱۸۲۔

۲؎ یہ سات ہی کیوں؟اِس سوال کا جواب، ہمارے نزدیک یہ ہے کہ قریش کے علاوہ بنی اسمٰعیل کے بڑے قبائل اُس وقت کے عرب میں سات ہی تھے اور امت وسط کی حیثیت سے قرآن مجید کو دنیا کی دوسری قوموں تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اُنھی کا انتخاب کیا تھا۔ چنانچہ ضروری تھا کہ اِس کے حفظ و تلاوت میں کم سے کم اُنھیں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ یہ قبائل درج ذیل ہیں:

ام القریٰ مکہ کے اطراف میں کنانہ، اُس کے سواد میں ہذیل اور مشرق میں ہوازن، وسط عرب میں تمیم، سوادیثرب میں بنوسلیم اور غطفان، اور تہامہ کے مشرق میں بنواسد۔

متن کے حواشی

۱۔ اس روایت کامتن صحیح بخاری، رقم ۴۶۳۲سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

الجامع، معمر بن راشد، رقم ۹۸۱۔ فضائل القرآن،قاسم بن سلام، رقم ۶۰۹۔ مسند احمد، رقم ۲۲۸۴،  ۲۶۱۴، ۲۷۴۶، ۲۹۹۸۔ صحیح بخاری، رقم ۴۶۳۲، ۴۹۹۱۔ جزء عبد بن یحییٰ الذہلی، رقم ۶۶۔ صحیح مسلم، رقم ۱۳۶۱۔ جامع البیان،طبری، رقم ۱۷، ۲۰۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۳۰۷۲، ۳۰۷۳۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۲۶۵۱۔ معجم ابن الاعرابی، رقم ۱۱۱۰۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۱۸۲۸۔ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم ۸۸۔المسند المستخرج علىٰ صحیح مسلم، رقم ۱۶۶۴، ۱۶۶۵۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۴۸۴۔ السنن الکبرىٰ، بیہقی، رقم ۳۶۶۸۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم ۲۰۸۱۔

۲۔صحیح مسلم،رقم ۱۳۶۱ میں اِس روایت کے راوی ابن شہاب کا یہ تبصرہ بھی نقل ہوا ہے: ’قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: بَلَغَنِي أَنَّ تِلْكَ السَّبْعَةَ الأَحْرُفَ، إِنَّمَا هِيَ فِي الأَمْرِ الَّذِي يَكُونُ وَاحِدًا لَا يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ‘،یعنی ابن شہاب کا کہنا ہے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ یہ سات حروف ایسے امور کے بارے میں ہیں،  جن کی اصل ایک ہی ہے، اور جن میں حلال و حرام کا کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔

 

_____ــــــ ۲ ــــــ_____

 

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ،۱ قَالَ: لَقِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فَقَالَ: «يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيِّينَ، مِنْهُمُ الْعَجُوزُ وَالشَّيْخُ الْكَبِيرُ۲، وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ».

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبریل علیہ السلام سے ملے۔ آپ نے فرمایا:  اے جبریل، میں ایک اُمی قوم۱؎  کے پاس نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اِن میں بوڑھی عورتیں اور بوڑھے مرد ہیں، لڑکے اور لڑکیاں ہیں، اِن میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے کوئی کتاب کبھی پڑھی ہی نہیں ہے۔۲؎ جبریل علیہ السلام نے اِس کے جواب میں فرمایا: اے محمد، قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے۔۳؎

_____________________

۱؎ یہ بنی اسمٰعیل کے لیے بمنزلۂ لقب ہےاور قرآن میں بھی اِسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔

۲؎ یہ سبب بیان ہوا ہے، جس کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسمٰعیل کے لیے عربی زبان کی ایک سے زیادہ بولیوں میں قرآن پڑھنے کی اجازت چاہی تھی۔  جن لوگوں نے اِس طرح کے لوگ دیہات میں دیکھے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اُنھیں ایک باقاعدہ کتاب کو خود اپنی زبان میں پڑھنے اور یاد کرنے میں بھی کس طرح کی دشواری پیش آسکتی ہے، کجا یہ کہ اُن سے یہ تقاضا کیا جائے کہ وہ اُس کو اُسی زبان کے کسی دوسرے لہجے میں پڑھیں اور یاد کریں۔

۳؎ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اِس کی اجازت دے دی تو سمجھنا چاہیے کہ ہر قبیلے کے لیے وہ گویا اُنھی کی بولی میں نازل کیا گیا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اس روایت کا متن سنن ترمذی، رقم ۲۸۸۷سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت اِن مصادر میں نقل ہوئی ہے:مسند طیالیسی،رقم۱۴۸۔ مسند احمد،رقم ۲۰۷۰۳ ۔مسند شاشی، رقم ۴۴۵۔

۲۔مسند احمد ،رقم۲۰۷۰۳ میں ’الشَّيْخُ الْكَبِيرُ ‘کے بجاے ’الشَّيْخُ الْعَاصِي‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ معنی کے لحاظ سے خاص فرق نہیں ہے ۔

 

_____ــــــ ۳ ــــــ_____

 

عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ،۱ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، أَيُّهَا قَرَأْتَ، أَجْزَأَكَ».

ام ایوب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے، تم جس حرف پر بھی اِس کی تلاوت کرو گے، وہ تمھاری طرف سے کفایت کر جائے گا۔۱؎

_____________________

۱؎ یہ اِس لیے فرمایا کہ ایک ہی زبان کے لہجے یا بولیوں کے اختلاف سے قرآن کے مدعا میں کوئی تغیر نہیں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ اِس وقت بھی لوگ اِسی بنا پر اپنے اپنے لہجے میں قرآن کی تلاوت کر لیتے ہیں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ مسلمانوں نے قریش کے لہجے کو بھی نسلاً بعد نسلٍ منتقل کرنے کی سعی ہر زمانے میں کی ہے۔ قاری حضرات اُس کی پیروی کرتے بھی ہیں، تاہم عام لوگوں کو اِس کا پابند نہیں کیا جاتا کہ ہر حال میں وہ اُنھی کے لہجے کی پیروی کریں۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن مسند احمد،رقم۲۶۹۶۲ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ام ایوب بنت قیس رضی اللہ عنہا ہیں، اُن سے یہ روایت اِن مصادر میں نقل ہوئی ہے: مسند حمیدی، رقم۳۳۵۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۹۵۲۸۔مسند اسحاق ،رقم۲۰۸۸۔مسند احمد،رقم۲۶۹۶۲ ،۲۶۹۷۳۔

 

_____ــــــ ۴ ــــــ_____

 

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ1، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ، قَالَ: فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام،2 فَقَالَ: إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَقَالَ: «أَسْأَلُ اللّٰهَ مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ»، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقَالَ: «أَسْأَلُ اللّٰهَ مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ»، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ، فَقَالَ: «أَسْأَلُ اللّٰهَ مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ»، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ، فَقَدْ أَصَابُوا.

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو غفار کے تالاب کے پاس تشریف فرما تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت کرتا ہے کہ آپ کی امت ایک حرف پر قرآن پڑھے۔۱؎ آپ نے فرمایا: میں اللہ سے عافیت اور مغفرت مانگتا، اور (عرض کرتا ہوں کہ) میری امت اِس کی طاقت نہیں رکھتی۔۲؎ پھر وہ دوسری بار آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت کرتا ہے کہ آپ کی امت دو حرفوں پر قرآن پڑھے۔ آپ نے فرمایا: میں اللہ سے عافیت اور مغفرت مانگتا، اور (عرض کرتا ہوں کہ) میری امت اِس کی طاقت نہیں رکھتی۔ پھر وہ تیسری بار آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت کرتا ہے کہ آپ کی امت تین حرفوں پر قرآن پڑھے۔ آپ نے فرمایا: میں اللہ سے عافیت اور مغفرت مانگتا، اور (عرض کرتا ہوں کہ) میری امت اِس کی طاقت نہیں رکھتی۔ پھر وہ چوتھی بار آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت کرتا ہے کہ آپ کی امت سات حرفوں پر قرآن پڑھے۔۳؎ وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے ، درست ہوگا۔

_____________________

۱؎ یعنی قریش کی بولی میں، اِس لیے کہ قرآن اُنھی کی زبان میں اتارا گیا ہے۔

۲؎ اِس لیے کہ اُس میں صرف قریش کے لوگ نہیں ہیں، اُن کے ساتھ بنی اسمٰعیل کے دوسرے قبیلوں کے لوگ بھی ہیں، جو قریش کی بولی پر قدرت نہیں رکھتے۔

۳؎ اِس کے بعد آپ نے مزید اصرار نہیں فرمایا۔ اِس کی وجہ پیچھے بیان ہو چکی ہے کہ قرآن کو دنیا کی دوسری قوموں تک پہنچانے کے لیے جن لوگوں کے حوالے کیا گیا، اُن کے بڑے قبائل اُس زمانے میں سات ہی تھے۔

متن کے حواشی

۱۔اس روایت کا متن صحیح مسلم،رقم ۱۹۰۶ سے لیا گیا ہے۔ اس کے راوی ابی بن کعب ہیں۔ اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

الجامع، معمر بن راشد، رقم ۹۸۲۔ المستخرج ، ابو عوانہ، رقم ۱۲۵۔ مسند ابی داؤد الطیالسی، رقم ۵۴۰، ۵۵۴۔ فضائل القرآن، قاسم بن سلام، رقم ۶۰۵۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۹۵۳۰، ۲۹۵۳۱، ۲۹۵۳۲، ۲۹۵۳۵، ۲۹۵۳۶، ۳۱۰۶۰۔ مسند احمد، رقم ۱۶۵، ۲۰۶۲۰، ۲۰۶۲۱، ۲۰۶۵۴، ۲۰۶۶۸، ۲۰۶۷۱، ۲۰۶۷۴، ۲۰۶۷۵، ۲۰۶۷۶، ۲۰۶۷۷، ۲۰۶۷۸، ۲۰۶۷۹، ۲۰۶۸۰، ۲۰۶۸۱، ۲۰۶۸۲، ۲۰۶۸۳، ۲۰۶۸۴، ۲۰۶۸۶، ۲۰۷۰۳۔ حلیہ الاولیاء، ابو نعیم، رقم ۲۵۵۰۔ مصنف عبد الرزاق، رقم ۷۰۴۔ السنن الصغرىٰ، نسائی، رقم ۹۳۰، ۹۳۱۔ السنن الکبرىٰ، نسائی، رقم ۹۹۹، ۱۰۰۰، ۱۰۰۱، ۷۶۷۰، ۱۰۰۴۲۔ کتب الاشراف، نسائی، رقم ۱۰۸۔ حدیث ابی شیخ، رقم ۱۰۶۔ معجم ابی یعلىٰ الموصلی، رقم ۱۲۱۔ جامع البیان عن تاویل آی القرآن، طبری، رقم ۲۲، ۲۳، ۲۴، ۲۵، ۲۶، ۲۷، ۲۸، ۲۹، ۳۰، ۳۸۔ جامع الترمذی، رقم ۲۸۸۷۔ صحیح مسلم، رقم ۱۳۶۲،  ۱۳۶۳۔ سنن ابی داؤد، رقم ۱۲۶۴، ۱۲۶۵۔ مسند ابی یعلىٰ، رقم ۳۰۶۹، ۳۰۷۰، ۳۰۷۱۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۲۶۴۰، ۲۶۴۱، ۲۶۴۸، ۲۶۴۹، ۲۶۵۲۔ مسند الشاشی، رقم ۱۳۸۲۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۱۶۷۳، ۱۱۶۷۴، ۱۱۶۷۵۔ ا لمعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۵۴۶۹، ۵۴۷۰، ۵۴۷۱۔ فوائد ابی نعیم الاصبہانی، رقم ۲۴۔

۲۔ مسند احمد ، رقم ۲۰۶۶۷میں یہاں جبریل کے بجاے دو فرشتوں کا ذکر آیا ہے، الفاظ ہیں: ’إِنَّ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْرَأْ عَلَى حَرْفٍ، وَقَالَ الآخَرُ، زِدْهُ‘،یعنی میرے پاس دو فرشتے آئے؛ ایک نے کہا: ایک حرف پر پڑھو، اور دوسرے نے کہا: اسے بڑھاؤ۔

 

_____ــــــ ۵ ــــــ_____

 

عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ۱، قَالَ: سَمِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: مَنْ أَقْرَأَكَهَا؟ قَالَ: رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَيْرِ هَذَا، فَذَهَبَا إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَارَسُولَ اللّٰهِ، آيَةُ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَرَأَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ» فَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، فَقَرَأَهَا عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: أَلَيْسَ هَكَذَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ» فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيَّ ذَلِكَ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَصَبْتُمْ ، وَلَا تَمَارَوْا فِيهِ، فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ» أَوْ «آيَةُ الْكُفْرِ».

عمرو بن العاص کے آزاد کردہ غلام ابو قیس سے روایت ہے کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو قرآن کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا تو اُس سے پوچھا: تمھیں یہ آیت کس نے پڑھائی ہے؟ اُس نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ عمرو بن العاص نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مجھے یہ آیت اِس سے مختلف طریقے پر پڑھائی ہے۔۱؎ اِس پر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اُن میں سے ایک نے عرض کی: اے اللہ کے رسول، فلاں فلاں آیت (اِس طرح ہے) اور اُسے پڑھ کر سنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اِسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر دوسرے شخص نے وہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھی اور عرض کی: اے اللہ کے رسول، کیا یہ اِسی طرح نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ اِسی طرح نازل ہوئی ہے۔ اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک، یہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے؛ تم جس طرح بھی پڑھو گے، درست ہی پڑھو گے۔۲؎ اِس میں جھگڑا نہ کرو، کیونکہ اِس میں جھگڑا کرنا کفر ہے یا (فرمایا کہ)کفر کی نشانی ہے۔

_____________________

۱؎ اِس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تعلیم کے موقع پر بھی اِس کی رعایت فرماتے تھے کہ جو شخص جس بولی میں تلاوت کر سکتا ہے، اُس کو اُسی کے طریقے پر پڑھا دیا جائے۔ اِس کی صورت، ظاہر ہے کہ یہی ہوسکتی تھی کہ وہ جب آپ کے پیچھے تلاوت کرے تو آپ اُس پر کوئی اعتراض نہ کریں، بلکہ اُس کی تصویب کر دیں۔

۲؎ اِس لیے کہ محض لہجے اور بولی کے اختلاف سے کسی زبان کے مدعا میں بھی کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اردو دہلی اور لکھنؤ کے طریقے سے بولی جائے یا پنجاب کے، وہ اردو ہی رہے گی اور اُس کا مدعا بھی ایک ہی ہو گا۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن مسند احمد،رقم ۱۷۴۷۲ سے لیا گیا ہے۔ اِس کےراوی عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت مسند احمد ہی کی رقم ۱۷۴۷۴ میں بھی نقل ہوئی ہے۔

 

_____ــــــ ۶ ــــــ_____

 

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ۱، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ، فَغَيَّرَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ، قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَرَأَ الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «قَدْ أَحْسَنْتَ»، قَالَ: فَكَأَنَّ عُمَرَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُمَرُ، إِنَّ الْقُرْآنَ كُلَّهُ صَوَابٌ مَا لَمْ يُجْعَلْ عَذَابٌ مَغْفِرَةً أَوْ مَغْفِرَةٌ عَذَابًا».

ہم سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور اُنھوں نے اپنے والد اور والد نے اُن کے دادا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عمر کے پاس (قرآن کی) تلاوت کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اُسے لقمہ دیا۔ اُس شخص نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اِسی طرح پڑھا، مگر آپ نے اُس میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی تھی۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہم سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے۔ اُس شخص نے آپ کے سامنے تلاوت کی تو آپ نے اُس سے فرمایا: تم نے اچھا ہی پڑھا ہے۔ راوی کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے اِس سے کچھ تردد محسوس کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عمر، بے شک، قرآن سارا کا سارا درست ہے، جب تک عذاب (کی آیت) کو مغفرت سے یا مغفرت (کی آیت) کو عذاب سے نہ بدل دیا جائے۔۱؎

_____________________

۱؎ یہ ایک دوسری رخصت تھی، جو عرضۂ اخیرہ کی قراءت تک باقی رہی کہ لوگوں نے قرآن کو جس طرح لکھ رکھا ہے، اُس کو وہ اپنے فہم کے مطابق پڑھ سکتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا کہ قرآن کے مدعا میں اِس طرح کی کوئی تبدیلی اگر نہیں ہو جاتی کہ عذاب کی آیت مغفرت سے اور مغفرت کی آیت عذاب کی آیت سے بدل جائے تو اُن کی اِس قراءت کو درست ہی سمجھا جائے گا۔ یہ رخصت پہلے مرحلے میں ناگزیر تھی، اِس لیے کہ اگر نہ دی جاتی تو لوگ قر آن کو پڑھنے ہی سے محروم ہو جاتے۔ سیدنا عمر کو اگرچہ اِس پر تردد ہوا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا کہ اِس کےسوا چارہ نہیں ہے۔ عرضۂ اخیرہ کے بعد، البتہ سورۂ قیامہ (۷۵) کی آیات ۱۶- ۱۹ کے مطابق مسلمان پابند تھے کہ اُسی قراءت کی پیروی کریں، جو اب مصحف پر ثبت ہے، اور جس کے مطابق اُن کی عظیم اکثریت اِس وقت بھی قر آن کی تلاوت کر رہی ہے۔ارشاد فرمایا ہے:

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ. اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَقُرْاٰنَهٗ. فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ. ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ.

’’ تم اِس قرآن کو جلد پالینے کے لیے اپنی زبان کو اِس پر نہ چلاؤ۔ (یہ اِسی طرح اترے گا۔تم مطمئن رہو)، اِس کا جمع کرنا اور سنانا، سب ہماری ذمہ داری ہے۔ اِس لیے جب (اُس وقت) ہم اِس کو پڑھیں تو اِس کی اُس قراء ت کی پیروی کرو۔ پھر ہمارے ہی ذمے ہے کہ (اگر کہیں ضرورت ہو تو ) ہم (تمھارے لیے) اِس کی وضاحت کر دیں۔‘‘

اِس وقت جو قراءتیں مصحف کی اِس قراءت کے علاوہ بالعموم پیش کی جاتی ہیں، وہ اِسی نوعیت کی بعض   رخصتوں کی یاد گار ہیں۔ اِس کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو: ہماری کتاب ’’مقامات‘‘ میں مضمون ’’قراءت کا اختلاف‘‘۔

متن کے حواشی

۱۔اس روایت کا متن مسند احمد،رقم ۱۶۰۲۱ سے لیا گیا ہے۔ اس کے راوی ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت اِن مصادر میں نقل ہوئی ہے:مسند رویانی،رقم۱۴۹۸۔التاریخ الکبیر،بخاری،رقم۳۴۶۔

 

_____ــــــ ۷ ــــــ_____

 

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ۱، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، وَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لِي: «أَرْسِلْهُ»، ثُمَّ قَالَ لَهُ: «اقْرَأْ»، فَقَرَأَ، قَالَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ»، ثُمَّ قَالَ لِي: «اقْرَأْ»، فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مِنْهُ مَا تَيَسَّرَ».

عبدالرحمٰن بن عبدالقاری بیان کرتے ہیں کہ اُنھوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ایک دفعہ ہشام بن حکیم بن حزام کو سورۂ فرقان اُس طریقے کے برخلاف پڑھتے ہوئے سنا، جس طریقے سے میں پڑھتا تھا، دراں حالیکہ میری قراءت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے سکھائی تھی۔ قریب تھا کہ میں اُن کے خلاف فوراً ہی کچھ کر بیٹھوں، لیکن میں نے اُنھیں مہلت دی کہ وہ (نماز سے) فارغ ہو لیں۔ چنانچہ وہ فارغ ہوئے تو میں نے اُن کے گلے میں چادر ڈال کر اُن کو گھسیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہو گیا، پھر آپ سے عرض کیا کہ میں نے اِنھیں اُس طریقے کے خلاف پڑھتے ہوئے سنا ہے جو آپ نے مجھے سکھایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو مجھ سے کہا: پہلے اِنھیں چھوڑ دو۔ پھر اُن سے فرمایا کہ اچھا، اب تم پڑھو۔ اُنھوں نے اپنی قراءت سنائی۔ آپ نے فرمایا: اِسی طرح نازل ہوئی تھی۔ اِس کے بعد آپ نے مجھ سے فرمایا: اب تم بھی پڑھو۔ میں نے بھی پڑھا تو آپ نے اس پر بھی فرمایا: اِسی طرح نازل ہوئی تھی۔ قرآن سات حرفوں میں نازل ہوا ہے۔ تم کو جس میں آسانی ہو، اُسی طرح سے پڑھ لیا کرو۔ ۱؎

_____________________

۱؎ روایت میں صراحت ہے کہ سیدنا عمر کو یہ واقعہ ہشام بن حکیم کے ساتھ پیش آیا تھا۔ ہشام بھی قریش میں سے تھے، اِس لیے لہجے یا بولی کے کسی اختلاف کا تو کوئی سوال پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ واضح ہے کہ یہ وہی اختلاف تھا، جس کا ذکر اِسی واقعے کی ایک دوسری روایت میں ہوا ہے، جو ہم نے پیچھے نقل کی ہے، لہٰذا بغیر کسی تردد کے کہا جا سکتا ہے کہ راوی نے غلطی سے سات حرفوں پر قرآن کے نزول کا ایک دوسرا مضمون، جو پیچھے متعدد روایتوں میں بیان ہو چکا ہے،  اِس واقعے کے ساتھ جوڑ دیا ہے، جس سے پوری روایت بالکل ناقابل فہم ہو گئی ہے۔ اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کے مقدمہ ۲ میں ہم نے اِسی بنا پراِس روایت پر تنقید کی اور اِس کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ اِس کے دلائل وہاں دیکھ لیے جا سکتے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن صحیح بخاری،رقم ۷۰۱۸ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں،اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

مسند الربیع بن حبیب، رقم ۱۵۔ الجامع،  معمر بن راشد، رقم ۹۸۰، ۹۸۲۔ موطا مالک، رقم ۱۵۲،  ۴۶۹ ۔ مسند الشافعی، رقم ۹۸، ۱۰۹۳۔ مسند ابی داؤد الطیالسی، رقم  ۳۸۔ فضائل القرآن،قاسم بن سلام، رقم  ۶۰۴۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ۲۹۵۳۸،۳۰۶۲۹۔ مسند احمد، رقم   ۱۵۶، ۱۵۹، ۲۷۹، ۲۹۸۔ قراءة النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوعمرو الدانی ، رقم  ۸۸۔ صحیح بخاری، رقم ۲۲۵۲، ۴۶۳۳، ۴۶۷۸، ۴۹۹۲، ۷۰۱۸۔ جزء عبد بن یحیى الذہلی، رقم ۷۰۔ صحیح مسلم، رقم ۱۳۶۰۔ سنن ابی داؤد، رقم ۱۲۶۳۔ مسند زخار،رقم ۳۱۰۔ السنن الصغرىٰ، نسائی، رقم ۹۲۶، ۹۲۷۔ السنن الکبرىٰ، نسائی، رقم ۹۹۶، ۹۹۷، ۹۹۸، ۱۰۸۵۲۔ تہذیب الآثار، طبری، رقم ۱۰۱۱۔ جامع البیان، طبری، رقم ۱۳، ۲۴۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۳۰۷۵، ۳۰۷۶، ۳۰۷۷، ۳۰۷۸۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۲۶۴۷۔ التناسب فی فوائد الحدیث، رقم ۱۲۔ معجم ابن الاعرابی، رقم ۸۷۔ صحیح ابن حبان، رقم ۷۴۸۔ مسند الشاشی، رقم ۳۱۱۳۔ الشریعہ،  آجری، رقم ۱۴۴۔ طبقات المحدثین،رقم ۶۸۴۔ عوالی مالک،رقم ۲۳۰۔ مسند الحسن بن علی، رقم ۷۲۔ المسند المستخرج، رقم ۱۶۶۲۔ اخبار اصبہان، رقم ۶۸۴۔ السنن الکبرىٰ ، بیہقی، رقم ۲۶۱۳، ۳۶۶۴۔

 

_____ــــــ ۸ ــــــ_____

 

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ۱، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قَرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ، دَخَلْنَا جَمِيعًا عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً، أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَءَا فَحَسَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهُمَا، فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنَ التَّكْذِيبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي، ضَرَبَ فِي صَدْرِي، فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَقًا، فَقَالَ لِي: «يَا أُبَيُّ، أُرْسِلَ إِلَيَّ أَنِ اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ: اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةَ: اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُكَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ حَتَّى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ».

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اُنھوں نے کہا: میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا۔ اُس نے جس طرح قراءت کی، اُس کو میں نے ممنوع ٹھیرایا اور اُس کو اُس سے روکا۔ پھر ایک اور آدمی آیا،۱؎ اُس نے بھی ایسی قراءت کی، جو اُس کے ساتھی کی قراءت سے مختلف تھی۔ ہم نماز سے فارغ ہوئے تو (اِس اختلاف کی وجہ سے) ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ میں نے عرض کی کہ اِس شخص نے ایسی قراءت کی، جو میں نے اِس کے سامنے رد کر دی اور دوسرا آیا تو اُس نے اپنے ساتھی سے بھی الگ قراءت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں قراءت کے لیے کہا۔ اُن دونوں نے قراءت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے انداز کی تحسین فرمائی۔ میرے دل میں یہ دیکھ کر آپ کی تکذیب کا داعیہ اِس شدت سے پیدا ہوا، کہ اُس وقت بھی اِس طرح نہ تھا، جب میں جاہلیت کے دور میں تھا۔۲؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر طاری اس کیفیت کو دیکھا تو میرے سینے پر ہاتھ مارا، جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا، اِس طرح کہ گویا خوف کی حالت میں اللہ عزوجل کو دیکھ رہا ہوں۔ اِس کے بعد آپ نے مجھ سے فرمایا:۳؎ مجھے ہدایت کی گئی کہ میں ایک حرف پر قرآن پڑھوں۔ اِس کے جواب میں، میں نے درخواست کی کہ میری امت پر آسانی فرمائیں۔ مجھے جواب دیا گیا کہ میں اُسے دو حرفوں پر پڑھوں۔ میں نے پھر عرض کی کہ میری امت کے لیے آسانی فرمائیں۔ چنانچہ تیسری مرتبہ جواب ملا کہ اچھا، سات حرفوں پر پڑھیے۔ نیز آپ کے لیے ہر دفعہ لوٹانے کے بدلے میں، جو میں نے لوٹایا، ایک دعا ہے جو آپ مجھ سے مانگ سکتے ہیں۔ میں نے عرض کی: میرے اللہ، میری امت کو بخش دے، میری امت کو بخش دے۔ تیسری دعا، البتہ میں نے اُس دن کے لیے موخر کر لی ہے، جس دن تمام مخلوق، حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام بھی میری طرف رجوع کریں گے۔

_____________________

۱؎ آگے یہی روایت ایک دوسرے طریق سے بیان ہوئی ہے، اُس میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام ہے۔ یہ غالباً اُنھی کا ذکر ہے۔

۲؎ اِس روایت کی نسبت اگر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف صحیح ہے اور وہ فی الواقع اِس کیفیت سے دوچار ہوئے تھے تواِس کی وجہ قرآن کو پڑھنے کے مختلف طریقے نہیں، بلکہ وہی رخصت ہو سکتی تھی، جس کا ذکر پیچھے سیدنا عمر کے واقعے میں ہوا ہے اور جس کے مطابق عرضۂ اخیرہ سے پہلے لوگوں کو اجازت دی گئی تھی کہ قرآن کا متن وہ اپنے فہم کے مطابق، جس طرح چاہیں، پڑھ سکتے ہیں۔ چنانچہ آگے روایت ۹ میں یہی مضمون جس طریقے سے نقل ہوا ہے، اُس میں اِس کی صراحت ہو گئی ہے۔

۳؎ اِس سے آگے قرآن کے سات حرفوں پر نزول سے متعلق ابی بن کعب ہی کی ایک دوسری روایت کا مضمون کسی راوی نے یہ خیال کر کے جوڑ دیا ہے کہ یہ بھی اِسی موقع کی بات ہے۔ اِس سے پہلے یہی معاملہ سیدنا عمر کے واقعے میں بھی بیان ہو چکا ہے۔ یہ محض سوء فہم ہے۔ ہم یہ روایت پیچھے نقل کر آئے ہیں۔ اُس میں دیکھ لیجیے، اِس طرح کا کوئی ذکر نہیں ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس موقع پر اگر کچھ فرمایا تھا تو وہ وہی ہو سکتا ہے، جو آگے روایت ۹ میں بیان ہوا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اس روایت کا متن صحیح مسلم،رقم ۱۹۰۴ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں،اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

صحیح مسلم، رقم ۱۳۶۱، ۱۳۶۲، ۱۳۶۳۔ مسند احمد ، رقم۲۰۶۶۴، ۲۰۶۶۷، ۲۰۶۷۴، ۲۰۶۷۸،  ۲۰۶۸۳، ۲۰۶۸۶۔ مسند ابی داؤد الطیالسی، رقم ۵۴۰، ۵۵۴۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۹۵۳۰ ، ۲۹۵۳۱، ۲۹۵۳۲، ۲۹۵۳۵، ۲۹۵۳۶۔ مصنف عبد الرزاق، رقم۷۰۴۔ السنن الکبرىٰ، نسائی، رقم ۹۹۹، ۱۰۰۰، ۱۰۰۱، ۷۶۷۰، ۱۰۰۴۲۔ السنن الصغرىٰ، نسائی، رقم ۹۳۰، ۹۳۱۔ کتب الاشراف، نسائی، رقم ۱۰۸۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۲۶۴۰، ۲۶۴۱، ۲۶۴۸، ۲۶۴۹، ۲۶۵۱، ۲۶۵۲۔ المستخرج علىٰ صحیح مسلم، ابو عوانہ، رقم ۳۰۷۲، ۳۰۷۳۔ شرح السنہ، بغوی، رقم ۱۲۱۲۔ السنن الکبرىٰ،  بیہقی، رقم ۳۶۶۸۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم ۲۰۸۱۔ المعجم الکبیر ، طبرانی، رقم ۱۱۶۷۳، ۱۱۶۷۴، ۱۱۶۷۵۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۵۴۶۹، ۵۴۷۰، ۵۴۷۱۔ حلیۃ الاولیاء، ابو نعیم، رقم ۲۵۵۰۔ فوائد ابی نعیم الاصبہانی، رقم۲۴، ۱۰۷۔

 

_____ــــــ ۹ ــــــ_____

 

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ۱، قَالَ: قَرَأْتُ آيَةً، وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: «بَلَى»، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلَمْ تُقْرِئْنِيهَا كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: «بَلَى، كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ»، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ، فَضَرَبَ صَدْرِي، فَقَالَ: «يَا أُبَيُّ بْنَ كَعْبٍ، إِنِّي أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ، فَقُلْتُ: عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقَالَ: عَلَى حَرْفَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ؟ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي: عَلَى ثَلَاثَةٍ، فَقُلْتُ: عَلَى ثَلَاثَةٍ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ، لَيْسَ مِنْهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ، إِنْ قُلْتَ: غَفُورًا رَحِيمًا، أَوْ قُلْتَ: سَمِيعًا عَلِيمًا، أَوْ عَلِيمًا سَمِيعًا، فَاللّٰهُ كَذَلِكَ، مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ، أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ».

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک آیت پڑھی، جب کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اُسے کسی دوسرے طریقے سے پڑھ رہے تھے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا آپ نے فلاں آیت مجھے اِس اِس طرح نہیں پڑھائی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کیوں نہیں۔ پھر ابن مسعود نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا آپ نے فلاں آیت مجھے اِس اِس طرح نہیں پڑھائی؟۱؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس پر بھی فرمایا: ہاں، کیوں نہیں، تم دونوں نے اچھا ہی پڑھا ہے۔ میں نے پھرعرض کیاتو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا ۔۲؎ پھر فرمایا:۳؎ اے ابی، مجھے قرآن پڑھایا گیا تو میں نے کہا کہ دو حرفوں پر۔ پھر فرشتے نے کہا کہ دو حرفوں پر یا تین پر؟ وہ فرشتہ جو میرے ساتھ تھا، اُس نے کہا کہ تین پر تو میں نے کہا کہ تین پر، یہاں تک کہ سات حروف تک پہنچ گئے اور فرمایا: اِن میں سے ہر ایک کافی شافی ہے۔ اگر تم۴؎ ’غفورًا رحيمًا‘‏‏‏‏ یا ’سميعًا عليمًا‘ یا ’عليمًا سميعًا‘ کہہ دیتے ہو تو اللہ اِسی طرح ہے، بشرطیکہ تم عذاب کی آیت کو رحمت سے یا رحمت کی آیت کو عذاب سے تبدیل نہ کرو۔

_____________________

۱؎ یہ اُنھوں نے غالباًاِس لیے فرمایا کہ آپ کے سامنے وہ آیت اُنھوں نے کسی وقت پڑھی تو آپ نے اُس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ اِس کی وجہ وہی حکمت ہے، جو ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں کہ عرضۂ اخیرہ سے پہلے آپ لوگوں کے لیے یہ رخصت لازماً برقرار رکھنا چاہتے تھے۔

۲؎ اِس سے واضح ہے کہ یہ  کوئی نیا واقعہ نہیں، بلکہ اُسی واقعے کی  ایک دوسری روایت ہے، جو پیچھے بیان ہو چکا ہے۔

۳؎ اِس سے آگے پھر سات حرفوں پر قرآن کے نزول کی روایت کا وہی پیوند ہے، جس کی نشان دہی ہم پیچھے کر چکے ہیں۔

۴؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس موقع پر اگر کچھ فرمایا تو وہ یہی ہو سکتا ہے، جو روایت کے آخر میں نقل ہوا ہے۔ اِس سے اندازہ کیا جاسکتا ہےکہ راویوں کا فہم کس طرح روایتوں پر اثرانداز ہوتا اور اُن کے مضامین کو اُن کی طرف سے کسی ادراج کے نتیجے میں بعض اوقات بالکل ناقابل فہم بنا دیتا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اس روایت کا متن مسند احمد رقم ۲۱۱۴۹ سے لیا گیا ہے۔اس کے راوی بھی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔

 

_____ــــــ ۱۰ ــــــ_____

 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ۱: كَانَ يَعْرِضُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ وَكَانَ يَعْتَكِفُ كُلَّ عَامٍ عَشْرًا فَاعْتَكَفَ عِشْرِينَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :  جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر سال ایک مرتبہ قرآن پڑھ کر سناتے تھے، لیکن آپ کی وفات کے سال اُنھوں نے  یہ دو مرتبہ آپ کو سنایا ۔۱؎ آپ ہر سال دس دن اعتکاف کرتے تھے، لیکن وفات کے سال آپ نے (اِسی بنا پر) بیس دن اعتکاف کیا تھا۔

_____________________

۱؎ یہ اُس اہتمام کا ذکر ہے، جو قرآن کی ترتیب و تدوین کے بعد اُس کی آخری قراءت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا گیا تھا۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن صحیح بخاری،رقم ۴۶۳۹ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ ہیں،اُن سے یہ روایت اِن مصادر میں نقل ہوئی ہے:مسند احمد،رقم۸۹۸۲۔السنن الکبریٰ،نسائی،رقم،۷۶۷۶۔

یہی روایت عائشہ رضی اللہ عنہا ،سیدہ فاطمہ  اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہیں۔اُن سے اِس کے مراجع یہ ہیں: مسند طیالسی، رقم ۶۷۰۳۔ مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۲۹۶۹۴، ۲۹۶۹۵، ۲۹۶۹۹، ۳۵۳۰۵۔ صحیح بخاری، رقم ۳۳۷۶، ۵۸۳۹۔ صحیح مسلم، رقم ۴۴۹۵۔ مسند احمد، رقم ۲۳۹۴، ۲۸۸۰، ۳۲۹۳، ۸۹۸۲، ۲۵۸۱۹۔ مستدرک حاکم، رقم ۲۸۳۰۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۱۲۵، ۱۲۶، ۲۵۱، ۲۵۲، ۲۶۵۸، ۳۱۰۵۔ مسند زخار، رقم ۷۵۵۔ مسند ابی یعلیٰ،رقم۶۷۰۳۔

بعض روایتوں میں یہی واقعہ ام المومنین سیدہ عائشہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بھی بیان کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:صحیح بخاری،رقم ۵۸۲۹۔

 

_____ــــــ ۱۱ ــــــ_____

 

عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ،۱ قَالَ: عُرِضَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرَضَاتٍ، فَيَقُولُونَ: إِنَّ قِرَاءَتَنَا هَذِهِ هِيَ الْعَرْضَةُ الأَخِيرَةُ.

سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کئی مرتبہ پیش کیا گیا۔۱؎ اِسی بنا پر لوگ کہتے ہیں کہ ہماری یہ قراءت ہی وہ قراءت ہے جو عرضۂ اخیرہ۲؎ کے مطابق ہے۔

_____________________

۱؎ اِس کی وضاحت پیچھے روایتوں میں ہو چکی ہے کہ ہر سال رمضان میں آپ اِسی مقصد سے اعتکاف فرماتے تھے، جس میں جبریل امین آتے اور جتنا قرآن نازل ہو چکا ہوتا، وہ  آپ اُن کو پڑھ کر سنا دیتے تھے تاکہ کوئی غلطی، اگر کسی جگہ ہو رہی ہے تو اُس کی اصلاح کر دی جائے۔

۲؎ یعنی وہ قراءت جو آخری دو سالوں میں، جس طرح کہ پیچھے بیان ہوا، قرآن مجید کی جمع و تدوین کے بعد کی گئی۔ اِسی کو ’عرضۂ اخیرہ‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سورۂ قیامہ (۷۵) کی آیات ۱۶ – ۱۹ میں اللہ تعالیٰ نے اِس کا وعدہ فرمایا اور اِس کے بعد قیامت تک پھر اِسی کی پیروی کا حکم دیا ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اس روایت کا متن مستدرک حاکم،رقم ۲۸۳۱ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی سمرہ بن جندب الفزاری رضی اللہ عنہ ہیں۔

Leave a comment