Skip to content Skip to footer

عقائدِ اسلام میں کلامی موشگافیوں سے ممانعت

“عقائدِ اسلام میں کلامی موشگافیوں سے ممانعت”
اسلام کے اصل عقائد نہایت سادہ اور مختصر ہیں۔ کوئی ان کو سمیٹنا چاہے تو صرف ایک ’لا إله إلا الله‘ میں سمیٹ سکتا ہے، جیسا کہ اس حدیث میں ہے کہ: «من قال لا إله إلا الله دخل الجنة»، جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا، وہ جنت میں داخل ہوا۔ اور اگر کچھ پھیلائے تو وہ سارے قرآن کو محیط ہے۔
اسلام نے اصولِ دین کو چھے دفعات میں یک جا کر دیا ہے، اور وہی ہے جو سورۂ بقرہ کے اول و آخر میں ہے، اور ایک حدیث میں ان کو بیان کیا گیا ہے: ایمان باللہ، ایمان بالرسل، ایمان بالکتب، ایمان بالملائکہ، ایمان بالیوم الآخر اور ایمان بالقدر۔ یہ دفعات صحابۂ کرام کے عہد میں بالکل سادہ تھیں، مگر جیسے جیسے مسلمانوں میں خیال آرائی بڑھتی گئی، ان مسائل میں نئے نئے مباحث بڑھتے گئے۔
اسلام عقائد کی وسعت اور کثرت کا شائق نہیں، بلکہ اس کے رسوخ، استواری اور شدتِ اذعان کا طالب ہے؛ لیکن انسانیت کی بیمار فطرت ہمیشہ وسعت کی طرف جاتی ہے۔ اخلاقِ فطرت کا فرستادہ ﷺ اس رمز سے آگاہ تھا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے بحث و مناظرہ کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ جائیں گے کہ: اچھا، خدا نے سب چیزوں کو پیدا کیا ہے، پھر خدا کو کس نے پیدا کیا؟
مسلم میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے آیتِ ذیل تلاوت فرمائی:
ترجمہ: ’’وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری ہے، جس میں آیتیں محکم بھی ہیں، جو اِس کتاب کی اصل بنیاد ہیں، اور (اِن کے علاوہ) کچھ دوسری متشابہات بھی ہیں۔ سو جن کے دل پھرے ہوئے ہیں، وہ اِس میں سے ہمیشہ متشابہات کے درپے ہوتے ہیں، اِس لیے کہ فتنہ پیدا کریں اور اِس لیے کہ اُن کی حقیقت معلوم کریں، دراں حالیکہ اُن کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اِس کے برعکس جنھیں اِس علم میں رسوخ ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم اِنھیں مانتے ہیں، یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کی چیزوں کو وہی سمجھتے ہیں جنھیں اللہ نے عقل عطا فرمائی ہے۔‘‘ (آل عمران: ۷)
پھر فرمایا:
’’جب ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ کے پیچھے پڑتے ہیں تو جانو کہ وہی ہیں جن کا خدا نے نام لیا ہے، تو ان سے احتراز کرو۔‘‘
اسی بنا پر صحابۂ کرام سے اگر کبھی کوئی ایسا فعل سرزد ہوتا جو اس ارشاد کے خلاف ہوتا تو آپ ﷺ سخت برہم ہوتے۔ ترمذی میں حضرت ابو ہریرہؓ سے اور ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ کچھ اصحاب ایک حلقۂ مجلس میں بیٹھے بحث و نزاع میں مشغول ہیں۔ فرمایا کہ کس مسئلے میں گفتگو کر رہے ہیں؟ عرض کی: مسئلۂ تقدیر میں۔ یہ سنتے ہی آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ راوی کا بیان ہے کہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا کسی نے چہرۂ مبارک پر انار کے دانے نچوڑ دیے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’کیا تم کو اسی کا حکم دیا گیا ہے؟ کیا تم اسی لیے پیدا کیے گئے ہو؟ کیا میں یہی پیغام دے کر بھیجا گیا ہوں؟ تم سے پہلے جو قومیں تھیں، وہ اسی میں ہلاک ہوئیں۔ میں بالتاکید کہتا ہوں کہ اس میں جھگڑا نہ کرو۔‘‘
ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام عقائد کی وسعت اور ان میں بحث و نزاع کا شائق نہیں۔ وہ صرف اس پیغام پر ایمان و یقین کا طالب ہے جو علی الاعلان تمام دنیا کو سناتا ہے، جس کے سمجھنے میں نہ عرب کے بدوؤں اور افریقہ کے حبشیوں کو تامل ہے اور نہ یونان کے حکیموں اور یورپ کے فلاسفروں کو۔
بخاری میں ہے کہ ایک دفعہ ایک صاحب کو ایک مسلمان غلام آزاد کرنا تھا۔ وہ ایک حبشیہ کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لائے اور دریافت کیا کہ کیا یہ مسلمان ہے؟ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ خدا کہاں ہے؟ اس نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا دی۔ آپ ﷺ نے ان صاحب سے فرمایا: ’’لے جاؤ، یہ مسلمان ہے!‘‘
اللہ اکبر! اسلام کی حقیقت پر کتنے پردے پڑ گئے ہیں۔ آپ ﷺ اسلام کے لیے صرف آسمان کی طرف انگلی اٹھا دینا کافی سمجھتے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک آج کوئی مسلمان، مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک نسفی کے تمام بندھے ہوئے عقائد پر حرفاً حرفاً آمنتُ نہ کہتا جائے۔
… پیغمبر کی ضرورت ہم نے اسی لیے تسلیم کی ہے کہ عقلِ انسانی زندگی کی اصلی گرہوں کے کھولنے سے عاجز ہے۔
مولانا سید سلیمان ندوی
ماخوذ از ’ رسالہ اہل سنت والجماعت ‘ صـ ۴۰-۴۳

Leave a comment