Skip to content Skip to footer

(حصہ دوم) امامت، الہام اور جہاد

امامت، الہام اور جہاد
(سید احمد شہید کی تحریک)
حصہ دوم:نقد کا جواب اہل روایت کی جانب سے
جوہر صاحب کے نقد کے جواب میں جو تحریریں سامنے آئیں، ان کا مجموعی مقدمہ یہ ہے کہ “منصبِ امامت” کو نئی نبوت، نئی شریعت یا متوازی دین کے اعلان کے طور پر پڑھنا درست نہیں۔
ان کے نزدیک جوہر صاحب نے کتاب کو اس کے سیاق، اصطلاحی دلالت اور مصنف کے مجموعی مدعا سے الگ کر کے پڑھا ہے۔ ان جوابات کا بنیادی اصرار یہ ہے کہ اس کتاب کا اصل موضوع امامت، خلافت، اطاعت، سیاسی نظم اور شریعت کی بالادستی ہے، نہ کہ نبوت، وحی یا تشریع کا کوئی نیا دعویٰ۔
اس جوابی موقف کو چند بنیادی نکات میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے:
1. جواب دینے والوں کے نزدیک جوہر صاحب نے “منصبِ امامت” کو پہلے ہی سے نئی نبوت، نئی شریعت اور متوازی دین کی کتاب فرض کر لیا، پھر ہر مشکل تعبیر کو اسی مفروضے کے تحت پڑھا۔
2. ان کے مطابق “نبی حکمی” سے حقیقی نبوت مراد نہیں۔ “حکمی” کا لفظ خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں ایک اعتباری، نیابتی یا تشبیہی نسبت مراد ہے۔ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اسی عبارت میں واضح کر دیتے ہیں کہ خلیفۂ راشد “فی الحقیقت پایۂ رسالت کو نہیں پہنچا”۔
3. “مشابہتِ تامہ” کو بھی وہ مساوات یا عینیت کے معنی میں نہیں لیتے۔ ان کے نزدیک مشابہت ہمیشہ کسی خاص وصف یا جہت میں ہوتی ہے، کلی مساوات میں نہیں۔ اس لیے امام کی انبیا سے کسی وصف میں مشابہت کو نبوت میں شرکت نہیں سمجھا جا سکتا۔
4. ان کے نزدیک “کمالاتِ انبیا” کا ذکر امام کے لیے نبوت ثابت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ امامت کی اخلاقی، روحانی اور سیاسی بلندی واضح کرنے کے لیے ہے۔ اسلامی روایت میں خلفا، علما، اولیا اور مجتہدین کے لیے انبیائی اوصاف سے مشابہت کی زبان ملتی ہے، مگر اسے نبوت کا اثبات نہیں سمجھا گیا۔
5. الہام کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اسے وحی یا مستقل قانون سازی کے معنی میں نہیں لینا چاہیے۔ یہ زیادہ سے زیادہ شریعت فہمی، ترجیحِ دلائل، عملی بصیرت یا غیر منصوص امور میں رہنمائی کا ذریعہ ہو سکتا ہے، مگر شریعت کا بدل نہیں۔
6. اسی بنا پر وہ “الہامِ تشریعی” کی تعبیر کو ایک سخت نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک شاہ اسماعیل دہلوی کے ہاں اصل بالادستی شریعت کو حاصل ہے، اور الہام اگر کہیں معتبر ہے تو شریعت کے تابع ہے، اس کے مقابل نہیں۔
7. جواب دینے والوں کے مطابق “منصبِ امامت” امام یا سلطان کو شریعت سے بالاتر نہیں بناتی۔ کتاب میں کئی مقامات پر کتاب اللہ، سنت، احکامِ شرع، حدود، تعزیرات، جہاد، اجتماعِ امت اور سیاسی نظم کو شریعت کے تابع بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے امام شارع نہیں، بلکہ شریعت کا محافظ اور منفذ ہے۔
8. “حقیقت” اور “ظاہریت” کی تقسیم کو بھی وہ باطنیہ کا نظریہ نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک اس سے مراد احکامِ شرعیہ کی حکمت، علت اور باطنی معنویت ہے، نہ کہ ظاہرِ شریعت کی تنسیخ۔
9. ان کے نزدیک کتاب میں امامت اور سلطنت کے مختلف مراتب بیان کیے گئے ہیں، جیسے خلیفۂ راشد، سلطانِ کامل، سلطانِ جابر، سلطنتِ عادلہ، سلطنتِ ضالہ اور سلطنتِ کفریہ۔ یہ درجہ بندی اس بات کی دلیل ہے کہ کتاب کسی ایک مطلق، غیر مشروط اور شخصی اقتدار کا نظریہ پیش نہیں کر رہی۔
10. جہاد کے باب میں بھی وہ اس نتیجے کو جادہ اعتدال سے ہٹا ہوا سمجھتے ہیں کہ کتاب نئی نبوت یا نئی شریعت کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ان کے نزدیک “منصبِ امامت” میں جہاد کو سیاسی نظم، صاحبِ امر، قوتِ نافذہ اور شریعت کے اجتماعی احکام کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ اس کے تاریخی اطلاق پر بحث ہو سکتی ہے، مگر اسے لازماً نئی شریعت یا نئی نبوت سے جوڑ دینا درست نہیں۔
چنانچہ جوہر صاحب کے نقد کا جواب دینے والوں کے نزدیک “منصبِ امامت” میں بعض تعبیرات مشکل، غیر مانوس یا قابلِ نقد ہو سکتی ہیں، مگر انھیں ختمِ نبوت میں نقب، الہام کے ذریعے متوازی شریعت، یا شخصی مذہبی اقتدار کے قیام کا قطعی اعلان قرار دینا متن، سیاق اور مصنف کے اپنے بیانات سے ہم آہنگ نہیں۔ ان کے نزدیک کتاب کا بنیادی موضوع امامت، خلافت، اطاعت، سیاسی نظم اور شریعت کی بالادستی ہے، نہ کہ نئی نبوت یا نئی تشریع کا کوئی تصور۔
اس جوابی موقف سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ زیادہ تر استدلال کتاب کے متن، سیاق، مصنف کی مراد، اصطلاحات کی دلالت اور تاریخی پس منظر کی توضیح تک محدود ہے۔ علمی روایت میں اس نوعیت کی بحثیں ناگزیر ہیں، کیونکہ کسی مصنف کی عبارت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس نے کوئی تعبیر کس معنی میں استعمال کی، ناقد نے اسے درست سمجھا یا نہیں، اور اس سے کون سا نتیجہ واقعی لازم آتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ جوابات “منصبِ امامت” کے فہم میں کئی اہم پہلو روشن کرتے ہیں۔
لیکن اس کے بعد ایک زیادہ بنیادی سوال سامنے آتا ہے۔ بحث صرف یہ نہیں کہ شاہ اسماعیل دہلوی کی مراد کیا تھی یا ان پر عائد کیا گیا الزام متن سے ثابت ہوتا ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ امامت، ولایت، الہام، کمالاتِ انبیا، سیاستِ ایمانی اور دینی قیادت کے یہ تصورات خود دین میں کس بنیاد پر قائم ہیں؟ ختمِ نبوت کے بعد کیا کسی شخص، امام، مجدد یا تحریک کے لیے خصوصی دینی علم، ماموریت یا اتھارٹی کا کوئی اصولی تصور باقی رہتا ہے؟
چنانچہ ضرورت یہ ہے کہ بحث کو متن کی توضیح اور تاریخی دفاع سے آگے بڑھا کر ان تصورات کی اصولی دینی حیثیت تک لے جایا جائے جن پر یہ پورا مناقشہ قائم ہے۔ اسی پس منظر میں فکرِ فراہی، بالخصوص جناب جاوید احمد غامدی صاحب کا زاویۂ نظر کیا ہے، اور میرے فہم کے مطابق وہ اس بحث کو کس سطح پر لے جاتا ہے، یہ اگلی پوسٹ میں زیرِ بحث آئے گا۔
محمد حسن الیاس
جاری ہے۔۔۔

Leave a comment