Skip to content Skip to footer

فلسفیانہ موشگافیوں کا نقصان

غور کیجیے کہ مذہب کیا چیز ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ انسان کی عملی زندگی کے لیے وہ چراغِ راہ ہے۔ انسان اور اس کی عملی زندگی کا تعلق تمام تر مادیات سے ہے، اس لیے ماوراے مادہ کی نسبت صرف وہیں تک اس کو تعلق ہے جہاں تک انسان کی عملی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ ہم اپنے مقصود کو اور زیادہ واضح کرنے کے لیے ذرا تفصیل سے کام لیتے ہیں۔
مذہب میں دو چیزیں ہوتی ہیں: عقائد اور اعمال۔ دوسرے الفاظ میں ان کی تعبیر ہو سکتی ہے کہ مذہب علم اور عمل سے مرکب ہے۔ علم کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو مادیات سے ماخوذ اور انہیں سے وابستہ ہے اور اس کے متعلق ہم میں بذریعۂ مشاہدہ و تجربہ یقین پیدا ہوتا ہے؛ دوسرا وہ علم ہے جس کا تعلق ماوراے مادہ سے ہے اور جس کے جاننے کا ذریعہ صرف تخیل، تصور اور ظن ہے۔ آگ جلاتی ہے، یہ علم مادی ذریعۂ احساس سے ہم کو حاصل ہوا، اس لیے ہم کو اس درجہ یقین ہے کہ غلطی سے بھی ہم آگ میں کودنے کی ہمت نہیں کر سکتے، لیکن دوسرا علم یہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد پھر دوسرا جنم لیتا ہے؛ لیکن اس علم پر اعتماد کرکے کیا کوئی انسان اپنی زندگی کا خاتمہ کر دینے پر تیار ہوگا؟
ہماری زندگی اسی عالمِ مادی سے تعلق رکھتی ہے، ہمارے اعمال اسی عالم میں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ افرادِ انسانی کی کامیابی اور ناکامی، قوموں کی ترقی و تنزل، عروج و زوال، انقلاب و تغیر، غرض انسانیت کے جملہ مظاہر اور عالم کے تمام تر نظامِ ترقی انہیں یقینیات اور علومِ قطعیہ پر مبنی ہیں جن کا ماخذ ہمارے حواس ہیں۔ اس بنا پر ان علوم، مسائل اور معلومات کے پیچھے پڑنا اور ان کی گرہ کشائی چاہنا، جو ماوراے حواس ہیں اور جن کے ساتھ ہمارا علم متعلق نہیں ہو سکتا، ہمارے لیے بالکل بے سود اور غیر مفید ہے۔ ہمارا فلسفہ، جس کا تعلق ماوراے مادہ سے ہے، علمِ ظنی ہے۔ سائنس کا اکثر حصہ ہمارے گزشتہ تجربوں اور مشاہدوں کی بنا پر ایک حد تک درجۂ یقینی رکھتا ہے۔ اب دیکھ لیجیے کہ دنیا ان دونوں میں سے کس کی ممنون ہے: فلسفہ کی یا سائنس کی؟
یونان کے سب سے پہلے فلسفی طالیس سے لے کر بیکن کے عہد تک ڈھائی ہزار برس میں فلسفہ دنیا کے لیے کیا کارآمد ہوا؟ لیکن سائنس نے دو تین سو برس کے اندر اندر عالم میں ایک انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ اس بنا پر غیر مادی اور غیر محسوس اشیا کی نسبت یہ سوال کہ وہ کیا ہیں اور کیوں کر ہیں، بالکل بے سود ہے، اور اس کی دلیل اس سوال کے حل میں انسانی نسلوں کی گزشتہ صدیوں اور قرنوں کی ناکامی ہے۔ اس لیے ہماری بحث اور تحقیقات کا موضوع، نفیاً و اثباتاً، غیر محسوس اشیا نہیں ہو سکتیں۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے یورپ نے اب سمجھا ہے اور جس کو اسلام نے اپنے آغازِ ظہور ہی میں واشگاف کر دیا تھا، لیکن افسوس ہے کہ اہلِ سنت کے سوا اسلام کے اور فرقوں نے اس کو محفوظ نہیں رکھا، اور یہی آخرکار ان کی بے راہ روی کا سبب ہوا۔ اس کا بڑا نقصان یہ پہنچا کہ ہماری خیالی دنیا وسیع ہو گئی مگر علمی دنیا تنگ ہو گئی۔ منطق و فلسفہ کی خیالی و قیاسی بحثوں کی بھول بھلیوں میں پھنس کر، تجربی و مادی علوم سے، جن کا مدار اشیا کے خواص و صفات کی معرفت پر ہے، ہم بے خبر ہو گئے اور غیر ہم سے بازی لے گیا، اور عملی و مادی دنیا کی ہر چیز میں ہم ان کے محتاج ہو گئے۔ یہ عملی نقصان تو اقتصادی حیثیت سے پہنچا، اور دین کی حیثیت سے یہ نقصان پہنچا کہ عقائد کی ان عقلی پیچیدگیوں میں الجھ کر اخلاق و عمل میں ہم سست و ناکارہ رہ گئے، اور دین و دنیا ہر حیثیت سے ہمارے عملی قویٰ کمزور اور سست ہوتے چلے گئے۔
مولانا سید سلیمان ندوی
ماخوذ از ’ رسالۂ اہل سنت والجماعت ‘

Leave a comment